سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا گزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل آنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنی گو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے تیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہ ورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے بوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سے جس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے ماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہے پھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولا مضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے سوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہے شعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیب صبح بہار گل پہ شب تار کر چلے اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہ تسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقاب پروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے آزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سے اس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے اٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کے پہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے لو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تم دو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے اندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھر ہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہ چاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے پیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچ انصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے